ہیرا سیارہ‘ دریافت کرنے کا دعوٰی’

آسٹریلیا میں سائنسدانوں نے ایک ایسا نیا سیارہ دریافت کرنے کا دعوٰی کیا ہے جو ہیرے جیسے انتہائی کثیف مواد کا بنا ہوا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ زمین سے چار ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کسی ایسے ستارے کی باقیات بھی ہو سکتی ہیں جو اپنی بیرونی پرت کھو چکا ہے۔

یہ سیارہ اب تک دریافت کیے جانے والے کسی بھی سیارے سے زیادہ کثیف ہے۔

بظاہر یہ سیارہ مشتری سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے لیکن اس کی کمیت مشتری سے کہیں زیادہ ہے۔

اس سیارے کی کثافت کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ شدید دباؤ والے ماحول کی وجہ سے اس کے مرکز میں موجود کاربن قلمی شکل اختیار کرنے کے بعد ہیرے میں بدل گئی ہو گی۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/08/110826_diamond_planet_zs.shtml

سائنسدانوں کا خلا میں سبزیاں اگانےکا کامیاب تجربہ

سائنسدانوں کا خلا میں سبزیوں کے پودے اگانے کا تجربہ کامیاب ہوگیا ہے۔ خلا میں مو جود بین الاقوامی خلائی جہاز میں امریکی اور اطالوی خلا نوردوں نے پہلی مرتبہ پودے اگانے کی کو شش کی تھی جس کےمثبت نتائج سامنےآئے ہیں۔ اسپیس شپ میں خلا نوردوں نےباغبانی کے شوق کو پورا کرتے ہوئے خاص طور پر تیار کردہ گرین ہائوسز میں مختلف سبزیوں کےچودہ بیج بوئےتھے جن میں سےدو پودوں کی کونپلیں پھوٹ آئی ہیں۔ خلا میں ان پودوں کو اگانے اور ان کی پرورش کیلئےمختلف طریقہ کار کےذریعے انتہائی نگہداشت میں خاص مٹی، پانی اور روشنی کا استعما ل کیا گیا۔ یہ کامیاب تجربہ خلا نوردوں کیلئےپہلا خوش آئند قدم ہےاور اب خلا میں سائنسدانوں کے لئے خود تازہ سبزیاں کاشت کرنےکی امید کی کرن بھی روشن ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ خلا میں باغبانی خلائی اسٹیشن کےعملے کی نفسیات پر بھی مثبت اثرات مر تب کریں گی جو کئی ماہ تک اپنے پیاروں، دوست احباب اور زمین سےدور خلا میں رہتے ہیں۔