خلائی شٹل ڈسکوری کو عجائب گھر منتقل کردیا گیا


شٹل کی عجائب گھر میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب میں 1962ء میں زمین کے مدار تک جانے والے پہلے امریکی خلاباز اور سابق سینیٹر جان گلین سمیت ماضی میں ‘ڈسکوری ‘ پہ سفر کرنے والے کئی خلاباز بھی شریک ہوئے.
امریکی خلائی پروگرام سے گزشتہ برس سبکدوش کی جانے والی خلائی شٹل ‘ڈسکوری’ کو بالآخر عوامی نمائش کے لیے واشنگٹن کے ایک عجائب گھر میں رکھ دیا گیا ہے۔
خلائی شٹل جمعرات کو واشنگٹن کے نواح میں واقع ‘نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم’ سے منسلک ‘ادور ہیزی سینٹر’Udvar-Hazy Center منتقل کیا گیا جو اب اس کا مستقل ٹھکانہ ہوگا۔
شٹل کی عجائب گھر میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب میں 1962ء میں زمین کے مدار تک جانے والے پہلے امریکی خلاباز اور سابق سینیٹر جان گلین سمیت ماضی میں ‘ڈسکوری ‘ پہ سفر کرنے والے کئی خلاباز بھی شریک ہوئے۔
اٹھائیس سال پرانی خلائی شٹل منگل کو ریاست فلوریڈا کے ‘کینیڈی اسپیس اسٹیشن’ سے واشنگٹن پہنچی تھی۔ ‘ڈسکوری’ نے اپنا آخری سفر امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ کے ‘بوئنگ 747’ جمبو جہاز کی پشت پر طے کیا تھا۔
جہاز سے بندھی خلائی شٹل کو واشنگٹن کے کئی اہم عوامی مراکز کے اوپر سے بھی گزارا گیا تھا تاکہ عوام اس شٹل کا نظارہ کر سکیں۔ بعد ازاں یہ جہاز شمالی ورجینیا کے ‘ڈلاس انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ پر اتر گیا تھا جہاں سے شٹل کو واشنگٹن کے نواح میں واقع عجائب گھر کے ذیلی مرکز منتقل کیا گیا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن کے مرکزی حصے میں واقع ‘ایئر اینڈ اسپیس میوزیم’ کا شمار دنیا کے مصروف ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ جب کہ ہر برس لگ بھگ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ عجائب گھر سے منسلک ‘ادور ہیزی سینٹر’ کا دورہ کرتے ہیں۔
‘ڈسکوری’ 1984ء میں ‘ناسا’ کے خلائی بیڑے میں شامل کی گئی تھی اور اس نے خلا کے کل39 سفر کیے جو امریکی خلائی ادارے کی کسی بھی دوسری خلائی شٹل سے زیادہ ہیں۔
خلائی محاذ پہ کئی اہم کارنامے ‘ڈسکوری’ سے موسوم ہیں جن میں 1990ء میں ‘ہبل ٹیلی اسکوپ’ کو خلا میں پہنچانا اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہ لنگر انداز ہونے والی پہلی شٹل ہونے کا اعزاز حاصل کرنا شامل ہیں۔
سنہ 1998ء میں سابق خلا باز اور اس وقت کے امریکی سینیٹر جان گلین ایک بار پھر ‘ڈسکوری ‘ کے ذریعے ہی خلا میں گئے تھے۔ یہ سفر کرکے 77 سالہ گلین نے خلا میں جانے والے معمر ترین شخص کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
نوے کی دہائی میں ‘ناسا’ کے دو خلائی جہازوں کی تباہی کے بعد معطل ہونے والی خلائی پروازوں کی بحالی بھی ‘ڈسکوری’ ہی کے خلائی سفر کے ذریعے ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ ‘ناسا’ نے گزشتہ برس خلائی جہازوں کی پروازیں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خلائی جہازوں کا بیڑہ سبکدوش کردیا تھا جن میں ‘ڈسکوری’ کے علاوہ ‘اٹلانٹس’ اور ‘اینڈیور’ نامی خلائی جہاز شامل تھے۔
‘ڈسکوری’ کو لاس اینجلس کے ‘سائنس میوزیم’ کی زینت بنایا جائے گا جب کہ شٹل ‘اٹلانٹس’ بدستور ‘کینیڈی اسپیس اسٹیشن’ پر عوامی نظارے کے لیے موجود رہے گی۔
‘ڈسکوری’ ‘ادور ہیزی سینٹر’ میں پہلے سے موجود امریکہ کے پہلے خلائی جہاز ‘اینٹر پرائز’ کی جگہ لے رہی ہے۔ ‘اینٹرپرائز درحقیقت ایک تربیتی جہاز تھا جس نے کبھی خلا کا سفر نہیں کیا۔
‘اینٹر پرائز’ کو آئندہ ہفتے اس کی نئی قیام گاہ نیویارک شہر کے ‘انٹریپڈ سی، ایئر اینڈ اسپیس میوزیم’ منتقل کیا جارہا ہے۔

بشکریہ

http://urdu.co/news/science-and-technology/

نوبل پرائز2011

انسانی جسم کے مدافعتی نظام پر تحقیق کرنے والے تین سائنس دانوں کو طب کے شعبے میں 2011ء کے ‘نوبیل’ انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم  میں پیر کو کیے گئے اعلان کے مطابق  امریکہ کے بروس بوئٹلر، لگسمبرگ کے جولیس ہوفمین اور کینیڈا کے رالف اسٹینمن مشترکہ طور پر طب کے شعبے میں سالِ رواں  کے ‘نوبیل ایوارڈ’ کے حق دار قرار پائے ہیں۔

بدقسمتی سے ڈاکٹر اسٹینمن اس اعلان سے صرف تین روز قبل ہی کینسر سے انتقال کرگئے۔ انکی عمر 68 سال تھی۔ نوبیل پرائز کمیٹی کا کہنا ہے کہ اعلان سے پہلے اسے ڈاکٹر اسٹینمن کی موت کی خبر نہیں تھی۔

ایوار ڈ کے ساتھ ملنے والی لگ بھگ 15 لاکھ ڈالر کی رقم  کا نصف اسٹینمن کو ملے گا جبکہ بقیہ نصف بٹلر اور ہوفمین کے درمیان تقسیم ہوگی۔

تینوں سائنس دانوں کو یہ اعزاز انسانی جسم کے مدافعتی نظام پر کی گئی ان کی تحقیق  کے اعتراف میں دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

سوئیڈن کی ‘رائل اکیڈمی آف سائنسز’ کی جانب سے طبیعیات اور کیمیا کے شعبوں کے ‘نوبیل’ انعامات کا اعلان بالترتیب پیر اور منگل کو کیا جائے گا۔ جبکہ رواں برس معاشیات  کے شعبہ  میں دنیا کے اس اعلیٰ ترین اعزاز   کے حق دار کا اعلان 10 اکتوبر  کو ہوگا۔

سالِ رواں کے لیے امن کے ‘نوبیل انعام’ کا اعلان جمعہ کو کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ہر برس مختلف شعبہ جات میں دیے جانے والے یہ ‘نوبیل’ اعزازات سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے متمول سائنس دان  اور ‘ڈائنامائیٹ’ کے موجد الفریڈ نوبیل  سے منسوب ہیں اور ان  کا آغاز 1901ء میں کیا گیا تھا۔

اب تک امن کے 91 ‘نوبیل’ اعزازات دیے جاچکے ہیں جبکہ 19 مواقع پر ایوارڈ کمیٹی اس  فیصلے پر پہنچی کہ اس برس  اعزا ز کے معیار پر پورا اترنے والا کوئی امیدوار موجود نہیں۔

‘انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس’ اب تک سب سے زیادہ یعنی کل تین ‘نوبیل’ امن اعزازات حاصل کرچکی ہے۔

‘نوبیل پِیس پرائز’ کی تاریخ میں ایک بار ایسا بھی ہوا ہے جب انعام کے حق دار قرار دیے گئے ایک فرد نے یہ اعزاز ٹھکرا دیا تھا۔ ایوارڈ کمیٹی نے 1973ء میں ویتنام کے سیاست دان لی ڈک ٹھو اور اس وقت کے امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کو امن کے ‘نوبیل’ انعام دینے کا اعلان کیا تھا تاہم ٹھو نے یہ اعزاز وصول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

شدید سمندری طوفانوں کی سائنس

سمندری طوفان اُس وقت بنتے ہیں جب کسی ایک علاقے میں ہوا کا درجہٴ حرارت نزدیکی علاقے کے درجہٴ حرارت سے مختلف ہوجاتا ہے۔ گرم ہوا سطحِ آب سے بلند ہونے لگتی ہے جب کہ سرد ہوا نیچے کا رُخ کرتی ہے ، اور یوں، ماحولیاتی دباؤ میں فرق آجاتا ہے

گذشتہ دِنوں امریکہ اور ایشیا میں شدید سمندری طوفان آئے۔ بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان بھی ہوا۔

بحرِ ہند کے اوپر ڈولپ ہونے والے طوفانوں کو’سائکلون‘ کہتے ہیں، شمال مشرقی بحر الکاہل پر بننے والے طوفان ’ٹائفون‘ کہلاتے ہیں، جب کہ مشرقی بحر الکاہل اور بحیرہٴ اوقیانوس کے اوپر بننے والےطوفانوں کو ’ہریکینز‘کا نام دیا جاتا ہے۔

اِن قدرتی آفات کو صدیوں سے انسانی نام دیے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ایک سائنس داں نے انیسویں صدی کے اختتام سے قبل اِن طوفانوں کو عورتوں کا نام دینا شروع کیا اور امریکہ میں ماہرینِ موسمیات نے 1953ء میں طوفانوں کے لیے خواتین کا نام استعمال کرنا شروع کردیا۔ لیکن، 1979ء میں مردوں کا نام بھی استعمال کیا جانے لگا۔

سمندری طوفان اُس وقت بنتے ہیں جب کسی ایک علاقے میں ہوا کا درجہٴ حرارت نزدیکی علاقے کے درجہٴ حرارت سے مختلف ہوجاتا ہے۔ گرم ہوا سطحِ آب سے بلند ہونے لگتی ہے جب کہ سرد ہوا نیچے کا رُخ کرتی ہے ، اور یوں، ماحولیاتی دباؤ میں فرق آجاتا ہے۔

اگر دباؤ بڑے علاقے کے اوپر تبدیل ہوتا ہے تو ہوائیں ایک بڑے دائرے کی شکل میں چلنے لگتی ہیں۔زیادہ دباؤ والی ہوا کم دباؤ والے مرکز کی طرف  کھچنے لگتی ہے۔ گہرے بادل بنتے ہیں اور شدید بارش ہوتی ہے۔

اُس وقت، طوفان بھی مزید شدید ہوجاتے ہیں جب وہ گرم سمندری پانیوں کے اوپر حرکت کرتے ہیں۔

انتہائی شدید سمندری طوفانوں میں ہواؤں کی رفتار 250کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔ 50سینٹی میٹر تک  بارش ہوسکتی ہے۔ بعض طوفانوں میں تو 150سینٹی میٹر بارش بھی ہوتی ہے۔

اِن طوفانوں کی وجہ سے سمندری لہروں میں بھی شدت آجاتی ہے اور بعض اوقات پانی کی موجیں چھ میٹر کی اونچائی تک پہنچ جاتی ہیں اور نشیبی ساحلی علاقوں میں سیلاب آجاتا ہے۔

امریکہ کے مقام میامی میں نیشنل ہریکین سینٹر شدید طوفانوں پر گہری نظر رکھتا ہے۔یہ سینٹر سرکاری عہدے داروں اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مدد سے لوگوں کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طوفان کے بارے  میں جلدی دی جانے والی اطلاعات کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی ہوگئی۔

موسمیاتی ماہر موسمی ماڈل تشکیل کرنے کے لیے کمپیوٹر پروگرام استعمال کرتے ہیں۔ اِن سے پتا چلتا ہے کہ طوفان کی سمت کیا ہوسکتی ہے۔

اِن پروگراموں میں درجہٴ حرارت،  ہوا کی رفتار، ماحولیاتی دباؤ اور ماحول میں پانی  کی مقدار یعنی نمی کے تناسب  کے بارے میں معلومات موجود ہوتی ہیں۔

سائنس داں یہ معلومات سیٹلائیٹس ، ویدر بیلونس اور سمندر میں بہتے ہوئے آلات سے حاصل کرتے ہیں۔

اُنھیں یہ معلومات بحری جہازوں، مسافر بردار طیاروں اور دوسری پروازوں سے بھی ملتی ہیں۔

سرکاری سائنس داں خصوصی آلات سے آراستہ جہازوں میں طوفان کے اندر اور  گرد اُڑان بھرتے ہیں، عملے کے افراد پیراشوٹ سے بندھے آلات گراتے ہیں اور اِن آلات کی مدد سے درجہٴ حرارت دباؤ اور ہوا کی رفتار کے بارے میں معلومات اِکٹھی کی جاتی ہے۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے بڑے طوفانوں پر اثر مرتب ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زمین کا ماحول اِن طوفانوں کو بدتر بنا رہا ہے،  جب کہ کچھ اور سائنس داں اِس نظریے سے اختلاف کرتے ہیں۔

http://www.voanews.com/urdu/news/health-science/Science_Hurricanes_19Sept11-130159888.html

گلوبل وورمنگ کے اثرات سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

صنعتوں کی تعداد اور ان سے پیدا ہونے والی آلودگی، آبادی میں اضافہ، دھواں اور جنگلات کا کٹاو گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی حدت میں اضافے کا بنیادی سبب قرار دیے جا سکتے ہیں۔ تاہم گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیر کے اثرات کی وجہ سے کرہ ارض پر زندگی کے وجود کو کئی خطرے لاحق ہیں۔ گلوبل وارمنگ آب وہوا میں رونما ہونے والی ان منفی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جس سے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ اور عالمی موسمیاتی توازن بگڑتا جا رہا ہے اور فی زمانہ یہ موسمیاتی بگاڑ پور±نیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صدی میں یہ ماحولیاتی مسئلہ ایک ہولناک صورت اختیار کرچکا ہے اور وقت کے ساتھ اس صورتحال کی ہولناکی میں اضافے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کیونکہ یہ مسئلہ جس قدر گھمبیر ہے اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات اس قدر سنجیدہ نہیں ہیں۔ گرمی کی شدت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فضا میں اوزون کی پرت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اوزون کی پرت بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے

تاہم ماحولیاتی آلودگی کے باعث اوزون کی پرت کو خاصا نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی میں بالائے بنفشی شعاوں کی زیادہ مقدار زمین پر پڑنے سے زمینی درجہ حرارت اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے قطب شمالی و جنوبی پر برف پگھلنے کے عمل میں بھی خاصی تیزی آرہی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سمندری طوفانوں میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

موسمیاتی تغیر و تبدل، جس کا فی الوقت سب سے بڑا ذمہ دار کرہ ارض پر بسنے والے انسان کی بے اعتدالیوں کو قرار دیا جاتا ہے، خشک سالی، خلاف معمول شدید ترین بارشوں، سمندری طوفانوں، سطح سمندر کی بلندی، زمینی درجہ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کی تحلیل سمیت متعدد صورتوں میں اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کے لیے یکساں طور پر پیچیدہ مسئلے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور نقصانات سے محفوظ نہیں ، ہر آنے والا دن ہمیں شدید موسمیاتی مسائل کے قریب تر لے جا رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات کا ماننا ہے کہ گذشتہ صدی سے پاکستان کے زمینی درجہ حرارت میں عشاریہ چھ سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اگلے برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں میں مزید شدت آنے اور بروقت بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا خدشہ ہے۔ پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے کس قدر متاثر ہو رہا ہے اس کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں موسم سرما اور گرما کی بارشوں میں سالانہ دس سے پندرہ فیصد کمی واقع ہو ئی ہے تاہم ماحولیاتی شدت کے عوامل کے باعث مون سون زون میں بارشوں میں اٹھارہ سے بتیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سیلاب اور زمینی کٹاو کے مسائل درپیش رہتے ہیں، ملک کے وسطی علاقوں میں بادلوں کی مقدار میں تین سے پانچ فیصد کمی ملک میں بڑے پیمانے پر موسمیاتی تغیر کو ظاہر کرتی ہے۔س گھمبیر صورت حال کو سنبھالا دینے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں: جنگلات گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے حکومتی سطح پر اگلی کئی دہائیوں تک شجر کاری کی کامیاب مہمیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ درخت لگانے اور ان کی حفاظت کے لیے عوام میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ درختوں کے بے جا کٹاو کے رجحان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ایندھن کا کم سے کم اور محتاط استعمال کیا جائے۔ ایسے انجن متعارف کروائے جائیں جو کم ایندھن میں زیادہ کارکردگی دیتے ہیں۔ زیادہ دھواں چھوڑنے والے اور زیادہ ایندھن کی کھپت کرنے والے پرانے انجنوں کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی جائے۔

http://www.paksc.org/pk/urdu-news-a-article/item/622-global-warming.html?tmpl=component&print=1

پیرس میں انسانی خون کے سرخ خلیے بنانے کا کامیاب تجربہ

فرانسیسی ماہرین نے خون کے سرخ خلیے بنانے کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پیرس میں پہلی مرتبہ انسان کے جسم میں خون کے سرخ خلیے داخل کرنے کا کامیاب تجربہ کیاگیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی ماہر نے کہا کہ خون کے سرخ خلیے بنانے کی تحقیق کا آغاز 10سال قبل ہوا تھا جسکے باعث ماہرین خون کے سرخ خلیے بنانے اور انہیں عام انسان کے جسیم میں داخل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایجاد کے بعد عطیات کی کمی محسوس نہیں ہوگی اور کسی سے خون کا عطیہ لینے کی ضرورت میں بھی کافی حد تک کمی ہو جائیگی۔

ہیرا سیارہ‘ دریافت کرنے کا دعوٰی’

آسٹریلیا میں سائنسدانوں نے ایک ایسا نیا سیارہ دریافت کرنے کا دعوٰی کیا ہے جو ہیرے جیسے انتہائی کثیف مواد کا بنا ہوا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ زمین سے چار ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کسی ایسے ستارے کی باقیات بھی ہو سکتی ہیں جو اپنی بیرونی پرت کھو چکا ہے۔

یہ سیارہ اب تک دریافت کیے جانے والے کسی بھی سیارے سے زیادہ کثیف ہے۔

بظاہر یہ سیارہ مشتری سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے لیکن اس کی کمیت مشتری سے کہیں زیادہ ہے۔

اس سیارے کی کثافت کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ شدید دباؤ والے ماحول کی وجہ سے اس کے مرکز میں موجود کاربن قلمی شکل اختیار کرنے کے بعد ہیرے میں بدل گئی ہو گی۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/08/110826_diamond_planet_zs.shtml

بحرالکاہل میں قدیم مچھلی کی دریافت

بحرالکاہل کے ایک غار میں پائی جانے والی نئی طرح کی ایک بام مچھلی کو اپنے قدیم نقوش کی بنا پر زندہ فوسل کہا گیا ہے۔

یہ مچھلی اس قدر منفرد ہے کہ سائنسدانوں کو اس کا باقی بام مچھلیوں سے رشتہ بیان کرنے کے لیے صنفیات میں ایک نیا خاندان بنانا پڑا ہے۔

امریکہ، جاپان اور جمہوری پلاؤ کی ایک مشترکہ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس بام مچھلی کے نقوش سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ارتقاء کی روح میں اس کا ماضی باقی صنف سے علیحدہ رہا ہے اور یہ دو کروڑ سال پہلے وجود میں آئی۔

اس بام مچھلی کے بارے میں تفصیلات ’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی‘ نامی جرنل میں شائع کی گئی ہیں۔

جس جانور پر نئی تحقیق کی گئی یہ ایک اٹھارہ سینٹی میٹر لمبی مادہ مچھلی ہے جس کو محققین نے جمہوری پلاؤ میں پانی کی سطح سے پینتیس میٹر نیچے سے پکڑا۔

تحقیق کی ابتداء میں محققین اس مچھلی کو بام مچھلی قرار دینے پر متفق نہ ہو سکے لیکن جنیاتی تجزیے کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ یہ جانور ایک قدیم بام مچھلی ہی ہے۔

سائنسدانوں نے لکھا ہے ’کئی صورتوں میں اس مچھلی کے نقوش حالیہ بام مچھلیوں سے مختلف ہیں اور کئی صورتوں میں اس کے نقوش قدیم تر بام مچھلی سے بھی الگ ہیں اور اسی بناء پر اس مچھلی کو ایک زندہ فوسل کہا گیا ہے۔‘

محققین کے مطابق یہ مچھلی اس وقت وجود میں آئی جب دنیا پر ڈائناسور اپنا راج شروع کرنے کو تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی زمانے میں یہ مچھلی کئی اور جگہوں پر بھی پائی جاتی ہو گی کیونکہ جس غار میں یہ فی الوقت پائی گئی ہے یہ صرف ستر لاکھ سال قبل وجود میں آیا۔