گلوبل وورمنگ کے اثرات سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

صنعتوں کی تعداد اور ان سے پیدا ہونے والی آلودگی، آبادی میں اضافہ، دھواں اور جنگلات کا کٹاو گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی حدت میں اضافے کا بنیادی سبب قرار دیے جا سکتے ہیں۔ تاہم گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیر کے اثرات کی وجہ سے کرہ ارض پر زندگی کے وجود کو کئی خطرے لاحق ہیں۔ گلوبل وارمنگ آب وہوا میں رونما ہونے والی ان منفی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جس سے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ اور عالمی موسمیاتی توازن بگڑتا جا رہا ہے اور فی زمانہ یہ موسمیاتی بگاڑ پور±نیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صدی میں یہ ماحولیاتی مسئلہ ایک ہولناک صورت اختیار کرچکا ہے اور وقت کے ساتھ اس صورتحال کی ہولناکی میں اضافے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کیونکہ یہ مسئلہ جس قدر گھمبیر ہے اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات اس قدر سنجیدہ نہیں ہیں۔ گرمی کی شدت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فضا میں اوزون کی پرت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اوزون کی پرت بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے

تاہم ماحولیاتی آلودگی کے باعث اوزون کی پرت کو خاصا نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی میں بالائے بنفشی شعاوں کی زیادہ مقدار زمین پر پڑنے سے زمینی درجہ حرارت اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے قطب شمالی و جنوبی پر برف پگھلنے کے عمل میں بھی خاصی تیزی آرہی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سمندری طوفانوں میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

موسمیاتی تغیر و تبدل، جس کا فی الوقت سب سے بڑا ذمہ دار کرہ ارض پر بسنے والے انسان کی بے اعتدالیوں کو قرار دیا جاتا ہے، خشک سالی، خلاف معمول شدید ترین بارشوں، سمندری طوفانوں، سطح سمندر کی بلندی، زمینی درجہ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کی تحلیل سمیت متعدد صورتوں میں اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کے لیے یکساں طور پر پیچیدہ مسئلے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور نقصانات سے محفوظ نہیں ، ہر آنے والا دن ہمیں شدید موسمیاتی مسائل کے قریب تر لے جا رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات کا ماننا ہے کہ گذشتہ صدی سے پاکستان کے زمینی درجہ حرارت میں عشاریہ چھ سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اگلے برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں میں مزید شدت آنے اور بروقت بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا خدشہ ہے۔ پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے کس قدر متاثر ہو رہا ہے اس کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں موسم سرما اور گرما کی بارشوں میں سالانہ دس سے پندرہ فیصد کمی واقع ہو ئی ہے تاہم ماحولیاتی شدت کے عوامل کے باعث مون سون زون میں بارشوں میں اٹھارہ سے بتیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سیلاب اور زمینی کٹاو کے مسائل درپیش رہتے ہیں، ملک کے وسطی علاقوں میں بادلوں کی مقدار میں تین سے پانچ فیصد کمی ملک میں بڑے پیمانے پر موسمیاتی تغیر کو ظاہر کرتی ہے۔س گھمبیر صورت حال کو سنبھالا دینے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں: جنگلات گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے حکومتی سطح پر اگلی کئی دہائیوں تک شجر کاری کی کامیاب مہمیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ درخت لگانے اور ان کی حفاظت کے لیے عوام میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ درختوں کے بے جا کٹاو کے رجحان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ایندھن کا کم سے کم اور محتاط استعمال کیا جائے۔ ایسے انجن متعارف کروائے جائیں جو کم ایندھن میں زیادہ کارکردگی دیتے ہیں۔ زیادہ دھواں چھوڑنے والے اور زیادہ ایندھن کی کھپت کرنے والے پرانے انجنوں کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی جائے۔

http://www.paksc.org/pk/urdu-news-a-article/item/622-global-warming.html?tmpl=component&print=1

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s