ایٹلانٹس آخری مرتبہ زمین کے لیے روانہ

جب یہ شٹل جمعرات کو زمین کے مدار میں پہنچے گی تو اس کے ساتھ ہی ناسا کے تیس سالہ خلائی پروگرام کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ایٹلانٹس منگل کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بج کر اٹھائیس منٹ پر کینیڈی خلائی مرکز کے لیے روانہ ہوئی۔

خلائی شٹل کے کمانڈر نے اپنے الوداعی پیغام میں کہا کہ ’خدا حافظ آئی ایس ایس، ہمیں خود پر فخر کرنے کا موقع دینا‘۔

زمین کے لیے روانہ ہونے سے قبل خلائی شٹل نے بین الاقوامی خلائی مرکز کے گرد چکر لگایا اور اس کی تصاویر اتاریں۔ یہ تصاویر ناسا کے انجینیئرز کو یہ جاننے میں مدد دیں گی کہ خلاء کا شدید ماحول اس مرکز پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے۔

ایٹلانٹس کے چار رکنی عملے نے آخری مرتبہ خلائی سٹیشن کے عملے کو الوداع کہتے ہوئے انہیں دو تحفے بھی دیے جن میں ایٹلانٹس کا ایک ماڈل اور وہ امریکی پرچم تھا جو سنہ 1981 میں پہلے خلائی مشن پر جانے والی شٹل پر نصب تھا۔

یہ پرچم ان پہلے امریکی خلابازوں کو دیا جائے گا جو نجی خلائی جہازوں کے ذریعے بین الاقوامی خلائی مرکز پر پہنچیں گے۔

ایٹلانٹس نے اپنے آخری مشن کے دوران بین الاقوامی خلائی مرکز پر ساڑھے تین ٹن ضروری سامان پہنچایا جبکہ واپسی کے سفر میں اس پر ڈھائی ٹن وزنی غیر ضروری سامان اور خلائی مرکز کا کوڑا کرکٹ لدا ہوا ہے۔

اس خلائی شٹل کی ریٹائرمنٹ کے بعد امریکہ کی جانب سے خلاباز روانہ کرنے کے عمل میں جو وقفہ آئے گا اسے پورا کرنے میں دو سے تین سال کا وقت لگ سکتا ہے۔

اس دوران بین الاقوامی خلائی مرکز تک آنے جانے کے لیے روسی خلائی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے خلائی گاڑیوں کو ناقابل برداشت اخراجات کی وجہ سے ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ناسا کا خیال ہے کہ وہ یہاں سے بچنے والا پیسہ بین الاقوامی خلائی مرکز سے پار چاند، مریخ یا سیارچوں پر انسان بھیجنے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s