معدہ کے امراض

جسم انسانی میں معدہ کی اہمیت اپنی جگہ مستحکم ہے مگر وہ خوراک کے ہضم کرنے میں زیادہ اہم کردار نہیں رکھتا۔ سب سے پہلے وہ اندر آنے والی غذا کا اسٹور بنتا ہے۔ پھر اس میں موجود نمک کا تیزاب اور Pepsinمل کر کھانے کو ہضم کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔ دوسرے افعال معمولی نوعیت کے ہیں۔ چونکہ یہاں پر خوراک زیادہ ہضم نہیں ہوتی اس لیے انجزاب کا عمل بھی برائے نام ہی ہوتا ہے۔ ہضم اور انجذاب کا سارا سلسلہ چھوٹی آنت میں عمل پاتا ہے۔ تیزابی ماحول میں آدھ گھنٹہ گزارنے کے بعد خوراک کو چھوٹی آنت کی طرف روانہ کرنے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ چھوٹی آنت میں تیزابیت ناپسندیدہ ہے اس لیے اس کے سب سے پہلے حصہ Duodenumکی جھلیوں سے سوڈا بائی کا رب پیدا ہوتا ہے جو معدہ سے آنے والی غذا کی تیزابیت کو ختم کرتا ہے۔

معدہ میں ہر وقت نمک کا تیزاب Hydrochloric Acidموجود رہتا ہے۔ لیکن یہ اس کی دیوار کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ قدرت نے ان دیواروں میں تیزاب سے مدافعت کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جو اس صلاحیت کو متاثر کرکے ختم کردیتا ہے اور تیزاب معدہ کی دیواروں کو کھا جاتا ہے۔ وہاں زخم پیدا ہوجاتے ہیں۔زخم معدہ میں ہوں تو ان کو Gastric Ulcerاور اگر چھوٹی آنت کے پہلے حصہ میں ہوں توان کو Duodenal Ulcerکہا جاتا ہے۔ دونوں کو ملا کرPeptic Ulcerکا نام دیا گیا ہے۔

معدے کا السر مہذب سوسائٹی میں روزمرہ کی بات ہے۔ یورپ اور امریکا میں جہاں اعداد و شمار میسر ہیں یقین کیا جاتا ہے کہ 10فیصدی مردوں کو دونوں السروں میں سے ایک ضرور ہوگا۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بنیادی طور پر مردوں کی بیماری ہے اور عورتیں نسبتاً محفوظ ہیں کیوں کہ مردوں اور عورتوں میں معدہ کے السر کی شرح 4:1تھی اور آنت کے السر کی 2:1۔ لیکن اب صورت حال بدل کر مردوں اور عورتوں کا تناسب 2:1رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ کاروبار‘ تفکرات‘ خوراک بلکہ شراب نوشی اور تمباکو نوشی میں مغربی ممالک کی عورتیں ہر طرح سے مردوں کی ہم پلہ ہوگئی ہیں اس لیے ان حرکات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں بھی یہ برابر کی شریک ہیں۔

اسباب

پرانے طبیبوں کا خیال تھا کہ غذا میں بداعتدالیاں خاص طور پر مسالے دار غذائیں اور تیز شرابیں معدہ کی جھلیوں کو کمزور کردیتی ہیں اور تیزاب ان کو کھا جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق ہندوستان کے جنوبی حصے میں کھٹائی کا زیادہ شوق السر کی زیادتی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

اس بیماری کا اب ایک نیا سبب معلوم ہوا ہے کہ جب کوئی شخص ہر وقت سڑتا اور کڑھتا رہتا ہے تو اس عمل میں اس کے معدہ کی دیواروں میں دورانِ خون میں کمی آجاتی ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے اس کی قوت مدافعت کے کمزور پڑتے ہی وہاں پر موجود تیزاب دیوار کا ایک کونا کھا لیتا ہے۔ یہ دیواریں اتنی بھی کمزور نہیں ہوتیں کہ تیزاب پوری دیوار یا پوری اندرونی جھلی کو گلا دے۔ ان کی کمزوری سے تیزاب کو کبھی کبھار ہی ایک آدھ کونا کھا لینے کا موقعہ ملتا ہے لیکن باقی حصہ اسی طرح تیزاب کی موجودگی کے باوجوداپنی حیثیت اور تندرستی قائم رکھتا ہے۔

کاروباری حضرات‘ سرجن‘ پائلٹ‘ پریشانی کا کام کرنے والے اور مصیبت کے دن گزارنے والوں کو اکثر السر ہوجاتے ہیں۔ جوڑوں کے دردوں میں استعمال ہونے والی اکثر دوائیں اگر درد کو آرام دیتی ہیں تو پیٹ میں السر بھی پیدا کرتی ہیں۔ اسپرین کا السر سے براہ راست تعلق ثابت ہوچکا ہے۔ کچھ السر ایسے ہیں جو معدہ میں ہونے کے باوجود مدتوں خاموش‘ تکلیف دیئے بغیرپڑے رہتے ہیں۔ ایسے مریضوں میں سے کسی کو اگر اسپرین کھانی پڑے تو اس کے فوراً بعد زخموں سے خون نکلنے لگتا ہے اور تب انھیں اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ کیونکہ اسپرین میں موجود تیزاب معدے کی جھلیوں کی قوت مدافعت کو براہ راست ختم کرتے ہیں۔ جوڑوں کے درد کے لیے استعمال ہونے والی جدید ادویہ میں سے اکثر اپنی کیمیاوی ساخت میں اسپرین سے مختلف ہیں لیکن ان میں موجود کیمیاوی اجزاءہر مرتبہ السر بنا دیتے ہیں۔ یہاں پر دو برائیوں میں سے ایک کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ سمجھدار معالج جب بھی جوڑوں کے درد کے لیے دوائی تجویز کرتے ہیں تو ساتھ میں تیزاب کی شدت کو کم کرنے والی دوائی ضرور دیتے ہیں۔ اس عمل کو اطباءعرب نے بدرقہ یا مصلح کا نام دیا تھا۔

شراب نوشی‘ تمباکونوشی اور تفکرات کے علاوہ صدمات بھی السر پیدا کرتے ہیں۔ جیسے کہ خطرناک نوعیت کے حادثات‘آپریشن‘ جل جانے اور دل کے دورہ کے بعد اکثر لوگوں کو السر ہوجاتا ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ صدمات چوٹ اور دہشت کے دوران جسم میں ایک ہنگامی مرکب Histamineپیدا ہوتا ہے یہ وہی عنصر ہے جو جلد پر حساسیت کا باعث ہوتا ہے۔ یقین کیا جارہا ہے کہ اس کی موجودگی یا زیادتی معدہ میں السر کا باعث ہوتی ہے۔ اسی مفروضہ پر عمل کرتے ہوئے السر کی جدید دوائوں میں سے Cemitidineبنیادی طور پر Histamineکو بیکار کرتی ہے اور یہی اس کی افادیت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

ایسی خوراک جس میں ریشہ نہ ہو۔ جیسے کہ خوب گلا ہوا گوشت۔ چھنے ہوئے سفید آٹے کی روٹی السر کی غذائی اسباب ہیں۔

اکثر اوقات السر خاندانی بیماری کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ آپس میں خونی رشتہ رکھنے والے متعدد افراد اس میں بیک وقت مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ ان میں تکلیف وراثت میں منتقل ہوتی ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بودوباش کا اسلوب‘ کھانا پینا یا عادات ایک جیسی تھیں۔ اس لیے ان کو السر ہونے کے امکانات دوسروں سے زیادہ رہے۔ جنسی ہارمون اور کورٹی سون کا استعمال السر پیدا کرسکتا ہے۔

50فیصدی مریضوں کو السر معدہ کے اوپر والے منہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسباب جو معدہ میں زخم پیدا کرتے ہیں وہ بیک وقت ایک سے زیادہ السر بھی بنا سکتے ہیں لیکن 90فیصدی مریضوں میں صرف ایک ہی السر ہوتا ہے۔ جبکہ 10-15فیصدی میں ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

پیٹ کے وسط میں پسلیوں کے نیچے جلن سے بیماری کی ابتداءکا پتا چلتا ہے جسے عام انگریزی میں لوگ Heart Burnکہتے ہیں۔ یہ جلن بڑھتے بڑھتے درد کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ درد کے اوقات واضح اور مقرر ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر دو کھانوں کی درمیان محسوس ہوتا ہے۔ مریضوں کو بھوک کا احساس درد سے ہوتا ہے۔کیونکہ یہ خالی پیٹ بڑھ جاتا ہے۔ اکثر مریض کھانا کھانے کے بعد آرام محسوس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیٹ کے تیزاب کھانے کو ہضم کرنے میں صرف ہوجاتے ہیں اس طرح وہ زخم پر لگ کر تھوڑی دیر کے لیے درد کا باعث نہیں بن سکتے۔

معدہ سے غذا کو مکمل طور پر نکل کر آنتوں میں جانے میں 2گھنٹے سے زائد عرصہ لگتا ہے معدہ 2-3گھنٹوں میں خالی ہوجاتا ہے۔ اس لیے اب تیزاب زخم پر لگ کر درد پیدا کرنے کے قابل ہوجاتا ہے یا مریض کو درد کی تکلیف کھانے کے 2-3گھنٹہ بعد محسوس ہوتی ہے۔ مریض کو اگر قے ہوجائے تو تیزاب کی کافی مقدار باہر نکل جاتی ہے اور درد میں کافی دیر کے لیے افاقہ ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس تفکرات‘ پریشانیاں‘ دہشت‘ شراب اور اسپرین درد میں اضافہ کرتے ہیں۔

السر کا درد ایک مخصوص مقام پر ہوتا ہے۔ اکثر مریض سوال کرنے پر درد کی جگہ انگلی رکھ کر صحیح نشان دہی کرسکتے ہیں۔ سوڈا بائی کارب کی تھوری سی مقدار بھی اس میں کمی لاسکتی ہے۔ درد اگر معدہ کے السر کی وجہ سے ہو تو یہ زیادہ عرصہ نہیں رہتا۔ اگر چہ لوگ 20سال تک بھی اس میں مبتلا رہتے ہیں مگر عام طور پر اس سے بہت پہلے یہ پھٹ جاتا ہے یا کنسر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی زیادہ مدت بھی چل جاتا ہے۔ یہ درد پیٹ کے علاوہ گردن سے نیچے کندھوں کے درمیان بھی محسوس ہوسکتا ہے۔

السر میں تشخیص کا سارا دارو مدار درد کی نوعیت۔ اس کے اوقات اور اس کے کھانے پینے سے تعلق پر ہوتا ہے۔ معدے کے السر میں مریض کو بھوکے پیٹ درد ہوتا ہے لیکن کھانا کھانے سے آرام ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کو درد کے بغیر ایک روز ناگہانی طور پر پتا چلتا ہے کہ قے کے ساتھ خون آرہا ہے اور ان کے پیٹ میں السر ہوگیا ہے۔ ورنہ عام طور پر سب سے پہلے جلن ہوتی ہے۔ پھر منہ میں کھٹا پانی آجاتا ہے (Water Brash) بھوک کم ہوجاتی ہے۔ کھانے کے بعد پیٹ میں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ جی متلانا اور قے ضروری نہیں لیکن قے اگرآجائے تو اس سے بڑا سکون محسوس ہوتا ہے۔ قے اگر بار بار آئے اور خاصی مقدار میں ہوتو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معدہ کا آنتوں کی طرف سے منہ بند ہے یا اس میں جزوی طور پر رکاوٹ آگئی ہے۔ بدہضی السر کے مریضوں کا خاصہ ہے لیکن اجابت کا نظام بہت کم متاثر ہوتا ہے۔ البتہ کبھی قبض اور کبھی اسہال روزمرہ کی بات بن جاتے ہیں۔ ان تمام امور سے مریض کی غذائی حالت متاثر ہوتی ہے۔ اس کا وزن کم ہونے لگتا ہے اور کمزوری بڑھتی ہے۔

السریوں بھی گھبراہٹ اور بے سکونی کے مریضوں کو ہوتا ہے۔ اوپر سے جب بدہضمی اور بھوک کی کمی شامل ہوں تو مریض کا حال مزید خراب ہوجاتا ہے۔

پیچیدگیاں

السر کی سب سے بڑی خرابی یا دہشت اس کا پھٹ جانا یا اندر خون بہنا ہے۔ عام طور پر کسی السر سے اپنے آپ جریان خون شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ مریض شراب پیتا ہے‘ اسپرین کھاتا ہے یا جوڑوں کے درد کی دوائوں میں خاص طور پر Phenyl Butazone Cortisoneکھاتا ہے تو یہ پھٹ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے بیہوشی‘ کمزوری‘ چکر‘ ٹھنڈے پسینے آتے ہیں‘ نبض کمزور پڑجاتی ہے۔

اسی طرح معدہ کی دیوار میں آر پار سوراخ ہوسکتا ہے۔ جس میں پیٹ تختے کی طرح سخت ہوجاتا ہے شدید درد‘ بخار‘ شدید قسم کا Peritonitisہوجاتا ہے۔

معدہ کا وہ منہ جو آنتوں کی طرف کھلتا ہے بند ہوسکتا ہے۔ راستہ بند ہونے پر غذا معدہ سے نہ تو آگے جاسکتی ہے اور نہ ہی جسم کی توانائی قائم رہ سکتی ہے۔ جتنی دیر معدہ غذا کو روک سکتا ہے روکے رکھتا ہے پھر قے کی صورت میں ساری غذا ایک دم سے باہر نکل جاتی ہے۔ اس قے سے طبیعت کو بڑا سکون ملتا ہے مگر یہ سکون ایک طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ پانی اور نمک کی فوری کمی واقع ہوجانے سے وہ تمام علامات پیدا ہوجاتی ہیں جو ہیضہ اور اسہال میں ہوتی ہیںساتھ ہی خون کی کمی اور جسمانی کمزوری آن لیتے ہیں۔ معدہ پھیل جاتا ہے جسے Acute Gastric Dilatationکہتے ہیں۔

السر کی 10فیصدی اقسام کنسر میں تبدیل ہوسکتی ہیں

یہ تمام پیچیدگیاں خطرناک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک جان لے سکتی ہے۔ اگرچہ ان میں بعض کا دوائوں سے علاج ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ طے کرنا کہ کون سے مریض کو بہتری ہورہی ہے اور کون سے کے حالات خراب ہورہے ہیں تجربہ کار اور مسند معالج کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ موٹی بات یہ ہے کہ ان تمام حالات میں کسی قسم کے علاج کی کوشش کرنے کی بجائے مریض کو ایسے ہسپتال میں داخل کردیا جائے جہاں پیٹ کے آپریشن کا معقول انتظام موجود ہو۔ ان کیفیات میں کسی قسم کا التوا موت کا باعث ہوسکتا ہے۔

علاج

ان زخموں کا دوائوں سے اگرچہ علاج کیا جاتا ہے۔ لیکن بعد میں گڑبڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ماہرین کی رائے میں ایک عام ڈاکٹر اور سرجن باہمی مشورہ سے مریض کا علاج کریں یا کوئی سرجن صورت حال سے آگاہ رہے۔ تاکہ زخم سے سوراخ پیدا ہونے یا کسی نالی کے پھٹ جانے کے بعد پیٹ میں ہونے والے جریان خون کو روکنے یا مریض کی جان بچانے کے لیے ہنگامی آپریشن کا بندوبست پہلے سے موجود ہو۔

غذا

ماہرین ابھی تک متفق نہیں کہ مریض کے لیے مناسب غذا کونسی ہونی چاہئے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مسالے دار غذائیں چونکہ بھوک کو بڑھاتی ہیں اس لیے دنیا میں ہر جگہ مسالوں اور مرچوں سے منع کردیا جاتا ہے۔ انگریز ڈاکٹر تو صرف اس پر اکتفا کرتے ہیں کہ مریض کو جو ناپسند ہو یا جس سے تکلیف ہوتی ہو اسے کھانا چھوڑ دے۔ تمباکونوشی کے دوران علاج بیکار ہوتا ہے۔

ہمارے ذاتی مشاہدے میں زیادہ مسالے یقینا خراب کرتے ہیں لیکن معتدل مقدار میں گھر کا پکا ہوا معمولی مرچوں والا کھانا نقصان دہ نہیں ہوتا۔ البتہ جب مرض کی شدت کا دورہ پڑا ہو تو اس وقت مرچوں سے پرہیز ضروری ہے۔ ہم نے کھٹائی اور چکنائی کو ہمیشہ تکلیف کو بڑھانے والا پایا۔ کھٹی چیزیں خواہ وہ سنگترا ہی کیوں نہ ہو تیزابیت میں اضافہ کرتا ہے اور چکنائی چونکہ معدہ میں ہضم نہیںہوتی اس لیے تبخیر پیدا کرکے تکلیف کا باعث بنتی۔

طب جدید میں لوگوں کو دودھ پر ضرورت سے زیادہ اعتقاد رہا ہے۔ بعض مریضوں کو علاج کے ابتدائی ایام میں دن میں چار چار مرتبہ دودھ پلایا جاتا رہا ہے۔دودھ تیزاب کی تیزی کو مار دیتا ہے لیکن پیٹ کے اکثر مریض دودھ ہضم نہیں کرسکتے بلکہ دودھ کی مٹھاس (Lactose)جراثیم کی کچھ قسموں کی پرورش میں مددگار ہوتی ہے۔ دودھ پینے سے جلن اور درد میں فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ آرام وقتی ہوتا ہے۔ جب تیزاب پھر سے پیدا ہوتا ہے تو جلن پھر سے نمودار ہوجاتی ہے۔

علاج بالادویہ

ڈاکٹروں نے معدے کی تیزابیت کو مارنے کے لیے دوائوں کی ایک طویل فہرست رکھی ہوتی ہے۔ جن کو Antacidsکہتے ہیں۔ یہ کیمیاوی عناصر نمک کے تیزاب کی تیزی کو کمیسٹری کے مشہور اصول کہ تیزاب کے اثر کو الکلی زائل کردیتی ہے اور الکلی کے اثر کو تیزاب Neutraliseکردیتا ہے۔

کیمسٹری کے اسی اصول کے مطابق معدہ میں تیزاب کی زیادتی کو ختم کرنے کے لیے الکلی دی جاتی ہے۔ ان میں سے آسان اور مقبول سوڈا بائی کارب ہے۔ یہ آسانی سے مل جاتا ہے۔ سستا اور قدرے بے ضرر ہے۔ ایک اہم خوبی یہ ہے کہ چھوٹی آنت کا پہلا حصہ خود بھی سوڈبائی کارب پیدا کرکے معدہ سے آنے والی تیزابی غذا کی تیزابیت کو زائل کردیتا ہے۔ سوڈا بائی کارب کواگر ابالا جائے تو وہ سوڈیم کاربونیٹ (کپڑے دھونے والا سوڈا) بن جاتا ہے جو کہ ایک زہریلا عنصر ہے۔

اس کے علاوہ Calcium, Aluminium, Magnesium, Sodium, Potassiumکے متعدد نامیاتی اور غیر نامیاتی مرکبات کی صورت میں آتے ہیں جیسے کہ magnesium Trisillicate Mag. Carbmag. Hydroxide, Aluminium Hydroxideوغیرہ

ان کے علاوہ جو ادویہ کثرت سے استعمال ہوتی ہیں ان میں Simeco Whydrate, Altacite, Aludrox, Digexہیں۔ دافع تیزاب ادویہ میں سے اکثر سیال ہیں جب کہ چند ایک کی گولیاں بھی ہیں۔ مریض ضرورت کے وقت ان کو چبا کر کھا سکتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے اوپر سے دو گھونٹ پانی پی لینے سے اثر جلد ہوتا ہے۔

تشخص: جب مریض درد والی جگہ کی پکی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی انگلی رکھ کر بتاد ے اور درد کو کھانا کھانے سے آرام آئے۔ بھوک ہو تو درد شروع ہوجائے قے سے آرام آئے تو یہ تمام علامات معدہ کے السر کا پتا دیتی ہیں۔

پہلے زمانے کے لوگ پیٹ میں ربڑ کی نالی ڈال کر خالی پیٹ تیزاب نکال کر پھر گندم کا دلیا کھلا کر معدہ سے رطوبتیں نکال کر ان میں تیزاب کی مقدار اور اس کی ہضم کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتے تھے۔ Gastric Analysisکا یہ عمل تین گھنٹوں پر محیط ہوتا تھا اور جو اطلاعات میسر ہوتی تھیں ان کا مطلب صرف اتنا ہی ہوتا تھا کہ تیزابیت موجود ہے۔ اس ٹیسٹ کا السر کی موجودگی سے کوئی تعلق نہ تھا۔

Barium Sulphateکی ایک معقول مقدار کھلا کر مریض کے متعدد ایکسرے کئے جاتے ہیں۔ پہلا ایکسرے پینے کے عمل کے دوران کیا جاتا ہے اس میں گلے سے لے کر معدہ تک جانے والی خوراک کی نالی نظر آتی ہے۔ دوسرے ایکسرے میں معدہ دیکھا جاتا ہے۔ آدھا گھنٹہ کے بعد کے ایکسرے سے پتہ چلتا ہے کہ معدہ کی اپنی شکل و صورت کیا ہے۔ اگر اس میں السر موجود ہے تو اس کے کونے نظر آئیں گے۔ آدھ گھنٹہ کے بعد غذا معدہ سے نکل کر آنتوں کو جاتی ہے اس مرحلہ پر لی گئی تصویر معدہ سے اخراج کا عمل یا خارجی منہ پر رکاوٹ ہے تو واضح ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد وقفہ سے لی گئی تصویریں آنتوں کی شکل و صورت ان میں غذا کے سفر اور وہاں پر پھلائو یا رکاوٹ کا پتا دیتی ہیں۔

چونکہ ایکسرے کی شعاعیں آنتوں اور معدہ سے گزر جاتی ہیں اس لیے ان کو شعائوں کے لیے معدہ رنگین بنانے کے لیے بیریم پلایا جاتا ہے۔ اس عمل کو Barium Meal X-Raysکہتے ہیں۔

حال ہی میں ٹیلی ویژن کیمرے کے اصول پر ایک چھوٹا سا کیمرا ایجاد ہوا ہے۔ مریض جب اس باریک سے کیمرے کو نگل لیتا ہے تو اسکرین پر اس کے معدے کا اندرونی منظر براہ راست نظر آنے لگتا ہے۔ معائنہ کرنے والا معدہ اور اس کے ہر حصہ کو پورے اطمینان کے ساتھ دیکھ سکتا ہے پھر یہی کیمرا چھوٹی آنت کے پہلے حصے تک دیکھ سکتا ہے۔ یوں السر کی زد میں آنے والے تمام مقامات دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس میں یہ بندوبست بھی موجود ہے کہ شبہ والے مقام یا زخم سے ٹکڑا کاٹ کر مزید خوردبینی معائنہ کے لیے باہر نکال لیا جائے۔ Gastroscopyکا یہ عمل یقینی اور فیصلہ کن ہے۔ اس سے نہ صرف کہ السر کی تشخیص یقینی ہوجاتی ہے بلکہ کچھ عرصہ بعد مریض کی بہتری یا بدتری کا بھی پتا چلایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s