پاکستان میں زندگی کا مکمل سافٹ ویئر ’جنوم‘ تیار

جامعہ کراچی کے سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ سے وابسطہ ڈاکٹر پنجوانی نے چین کے بیجنگ جنومکس انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے پاکستان میں پہلی بار پاکستانی شہری کے جنوم کا مکمل خاکہ تیار کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سابق وفاقی وزیر پروفیسر ڈاکٹر عطاءالرحمان نے جو جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیو لوجیکل سائنسز کے پیٹرن بھی ہیں خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔

پاکستان میں اس منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان دنیا کا چھٹا ملک ہے جہاں یہ کام سرانجام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ، یورپ، افریقہ، بھارت کے شہریوں کے علاوہ یہودیوں کے جنوم کے مکمل نقشے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودیوں کے جنوم کا ٹیسٹ اس لیے کیاگیا کیونکہ وہ ایک منفرد نسلی اور مذہبی گروہ ہے۔

اس منصوبے کے بارے میں ڈاکٹر اقبال چوہدری نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جنوم دراصل جین کی دنیا میں کسی بھی انسان کا ایک مکمل نقشِ ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا مکمل سافٹ وئیر ہے جس میں اس کی ہر تفصیل لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ ’جیسے کہ اس کے آباؤ اجداد کہاں سے آئے تھے، اس کی اپنی شخصیت کیسی ہے، اس کے طبعی خدوخال، اس کی رنگت کیسی ہے، اس کی موروثیت، نسل اور ذہنی استعداد وغیرہ کی مکمل تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ کیا بیماریاں ہیں یا کون سی بیماریاں ہونے کا امکان ہے۔ یہ ساری معلومات ان جنومز میں ان کوڈڈ ہوتی ہیں‘۔

ڈاکٹر اقبال نے مزید بتایا کہ ایک انسانی خلیے میں 300 ارب جنوم ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام انسانوں کا بنیادی جنوم ایک ہی جیسا ہوتا ہے مگر اس میں کچھ فرق ہوتا ہے اور یہی فرق ہے جس سے انسان کی نسل اور قوم کی شناخت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر چوہدری نے بتایا کہ جنوم ایک بہت بڑی دستاویز ہے اور اسے لکھا جائے تو ہزار صفحے کی 200 کتابیں بنیں گی۔ مگر یہ تفصیلات بہت اہم ہیں، جن کی مدد سے انسانی زندگی اور صحت کےمسائل کوحل کرنےمیں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہماری قوم کون سی اقوام کے ملنے سے بنی ہے اور ’اگر ہمیں کسی آثارِ قدیمہ کی جگہ سے کوئی ڈی این اے مل جائےتو ہم یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ آج کا انسان 5 ہزار سال پہلے کے انسان سے کس حد تک مختلف ہے‘۔

اس منصوبے پر کُل 40 ہزار ڈالر خرچ ہوئے جس میں سے 20 ہزار ڈالر چین کے بیجنگ انسٹیٹیوٹ نے اور 20 ہزار پنجوانی سینٹر نے دیے اور یہ 6 ماہ میں مکمل ہوا۔

ڈاکٹر اقبال چوہدری کے مطابق اب پاکستان کے مزید علاقوں کے لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کا مرحلہ شروع ہو گا جس میں گوادر کے ساحلی علاقوں اور کیلاش کے رہنے والوں کے جنوم میپ تیار کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s